آپ عزت کرنا سیکھ کیوں نہیں لیتے؟

01 رامش فاطمہ  

کیا واقعی محبت اور جنگ میں سب جائز ہے؟ کیا واقعی سیاست کے کوئی اصول نہیں ہوتے؟ کیا فکری مباحث کے بیچ ذاتیات اور کردار کشی کی گنجائش بنتی ہے؟ کیا گھر سے باہر آنے کی سزا تہمتوں کے سوا کچھ ہے؟ کیا عزت کروائی جاتی ہے یا یہ ایک ایسا احساس ہے جو ہر انسان کے اندر جنم لیتا ہے اور وہ بلا امتیاز جبہ و دستار و حجاب و نقاب عزت دینے پر یقین رکھتا ہے؟ کیا سیاسی منظرنامے میں ذاتیات کو نشانہ بنانا درست روایت ہے؟ دھرنا ہوا، نہیں ہوا، حکومت رہی یا گئی، عمران اور نواز میں سے کون جیتا، اور کیا دونوں ہرکارے سرکار کے بچھائی بساط پہ لوگوں کو بےوقوف بناتے رہے؟ اس پہ بہت کچھ لکھا جا چکا اور بہت کچھ لکھا جائے گا۔ حامی و مخالفین جواز ڈھونڈنے میں لگے ہیں جو بھی ہاتھ لگتا ہے، اٹھاتے ہیں اور سوشل میڈیا پہ ڈال دیتے ہیں اور یہی نکتہ اہم ترین ہے۔ سب لوگ اخلاقیات اور میڈیا کے زوال پہ سوال اٹھاتے ہیں مگر ریٹنگ جاوید چوہدری جیسے دانشور کی اسی پروگرام کی کیوں زیادہ آتی ہے جہاں فردوس عاشق اعوان کشمالہ طارق کی تذلیل کریں؟ اشرفی صاحب قابل احترام ٹھہرائے جاتے ہیں مگر گالی عتیقہ اوڈھو کو ہی کیوں پڑتی ہے؟

کیا سماجی ذرائع ابلاغ سے پہلے فکری اختلاف پہ کردار کشی کی گئی؟ تاریخ کہتی ہے کہ رعنا لیاقت علی کے پہناوے سے لے کر فاطمہ جناح تک کو نشانہ بنایا گیا۔ وہی فاطمہ جناح جنہیں ہماری نصابی کتب میں مادر ملت لکھا جاتا ہے ان کی زندگی میں ان کے ساتھ جو ناروا سلوک روا رکھا گیا ہماری نئی نسل اس سے واقف نہیں۔ نصرت بھٹو ہو یا بےنظیر بھٹو، اختلاف کرنے والوں نے مخالفت برائے مخالفت اور تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ پنکی ایسی، تو پنکی ویسی، ہم بےنظیر کی حیاتی تک سنتے ہی رہے۔ اب نیا دور ہے، نیا زمانہ ہے، اب ہمارے بچے دھرنے میں جاتے ہیں، ایک جماعت سے شروع ہوا موسیقی کا سلسلہ سب جماعتوں کے جلسے تک جا پہنچا ہے، سب لوگ دھنیں بجاتے ہیں، جھومتے ہیں، ناچتے ہیں، گاتے ہیں اور گھر واپس آ کر مخالف جماعت کی خواتین کی کردار کشی کی مہم میں بھرپور حصہ ڈالتے ہیں۔ ایسے میں کچھ دانش فروشانِ ملت کا دعوی ہے کہ عزت ہر عورت خود کرواتی ہے، ہم آج تک یہی سمجھتے تھے کہ سب کی عزت کرنی چاہیئے، انسان کا احترام باقی رہنا چاہیئے لیکن اب ٹکے ٹوکری کے بھاؤ بکتی دانش کہتی ہے کہ صاحب یہ معیار ہے اور یہ پیمانہ ہے، اس حساب سے پرکھیں گے، آپ اس پہ پورا اتریں گے تو عزت کریں گے نہیں تو آپ کا دوپٹہ ہے اور ہمارا ہاتھ ہے۔ جہاں بھی پڑے، جتنا بھی پڑے، آپ ہی بچیں ہم تو صرف ہاتھ مار رہے تھے اگر آپ کا دوپٹہ ہاتھ آ گیا تو آپ کو خیال کرنا ہو گا کہ دوپٹہ میرے ہاتھ تک پہنچا کیوں۔

ایک مخصوص طرز کا نصاب آزاد صاحب کو کانگریس کا شو بوائے بتاتا ہے، باچا خان کو غدار کہتا ہے، ایسی سوچ کا پرچار کرنے سے بس اتنا ہوتا ہے کہ جھوٹ اور الجھی ہوئی بات پڑھنے والی نسل ناچنا گانا بھی چاہتی ہے اور یہ تمیز روا نہیں رکھتی کہ اختلاف اور مخالفت میں کیا فرق ہے، تنقید اور تذلیل کے بیچ باریک مگر بہت واضح فرق کو سمجھنے سے قاصر ہے، انہیں اس بات پر بھی کامل یقین ہے کہ ریاست عقیدے کی بنا پر شہریوں میں تفریق کر سکتی ہے، فرائض کے مارے لوگ اسی ملک میں بسنے والے باقی افراد کے حقوق تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اس کا جواز تلاش کرتے رہتے ہیں۔ مریم بی بی کے سوشل میڈیا سیل یا انہیں بلاجواز ذمہ داریاں سونپنے پہ اعتراض کیا جا سکتا ہے لیکن کیا ذاتیات کو نشانہ بنانا درست عمل ہے؟ انسان کی عزت کا مقدمہ لڑنا احسن ہے مگر اس بیچ اپنی عزت کو نشانہ بنانے سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا۔ بچے بڑے ہو گئے اور بڑے بوڑھے ہو گئے، تعلیم بھی ہو گئی ڈگری بھی اور نوکری بھی مل گئی مگر شعور اس سے مختلف شے ہے۔ اگر شعور بھی یونہی ملتا ہوتا تو اہلِ دانش نہیں، اہلِ نظر بھی عام ہوتے۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *