نیک لوگوں کا معاشرہ

01 یاسر پیرزادہ

اس محفل میں سبھی موجود تھے۔ کرپشن کے خلاف برسر پیکار سرمایہ دار، تبدیلی کے خواہش مند نوجوان، غیر جانبدار تجزیہ نگار، انقلاب کے داعی صالحین، امیگریشن کا پروانہ جیب میں رکھنے والے تارکین اور بیڈ گورننس کا رونا روتے ہوئے سرکاری افسران۔ نوحہ پڑھا جا رہا تھا کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں، کرپشن نمبر ون مسئلہ ہے، جمہوریت کے نام پر ایک گلا سڑا نظام قائم ہے، ادارے کام نہیں کرتے، قاتل چھوٹ جاتے ہیں، غریب سولی چڑھ جاتے ہیں۔۔۔ البتہ۔۔۔ بطور تاجر میں بالکل’’کلین ترین ‘ ‘ ہوں، کسی قسم کی بد عنوانی میں ملوث نہیں، دامن نچوڑوں تو فرشتوں کے ساتھ حوریں بھی وضو کرتی ہیں، ٹیکس چونکہ حکومت کی عیاشیوں پہ صرف ہو جاتا ہے اس لئے میں صدقات اور خیرات وغیرہ دینے پر یقین رکھتا ہوں۔۔۔۔ بطور نوجوان میں نے بھی کبھی کوئی قانون نہیں توڑا، اپنی محنت سے آئی ٹی کی ڈگر ی لی ہے، ایک ملٹی نیشنل میں ملازمت کو رہا ہوں، ہاں موٹر سائیکل کا لائسنس میرے پاس نہیں، ملازمت کے حصول کے لئے تجربے کا سرٹیفیکیٹ بھی ایک دوست کے والد کی فرم سے بنوایا تھا گو کہ میں نے کبھی اس فرم میں کام نہیں کیا تھا، امریکہ میں جاب کی درخواست دے رکھی ہے جونہی کوئی سلسلہ بنا میں یہ کرپٹ ملک چھوڑ کے امریکہ چلا جاؤں گا۔۔۔۔ بطور ایک صالح مبلغ میرا فرض بنتا ہے کہ اس ملک میں انقلاب کے لئے جدو جہد کروں اور الحمد اللہ میں اپنا یہ فرض بخوبی نبھا رہا ہوں، پچھلے دنوں ایک کرپٹ ادارے کے کچھ اہلکار میرے مدرسے کی رجسٹریشن کے لئے آئے تھے جنہوں نے ساتھ یہ پوچھنا بھی شروع کر دیا کہ مجھے فنڈ کہاں سے ملتے ہیں، میں نے آڈٹ کب کروایا تھا، پیسہ کہاں کہاں خرچ ہوتا ہے، یہ دراصل طاغوت کے ہرکارے تھے جنہیں میں نے نکال باہر کیا، کس کی جرات ہے انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکائے۔۔۔۔ بطور لکھاری مجھے فخر ہے کہ میں غیر جانبدار ہوں اوربے لاگ تجزیہ کرتا ہوں، جو لکھاری حق اور باطل کے درمیان فرق کرکے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ احمق ہیں، دراصل اُنہیں لکھنے کا فن ہی نہیں آتا کہ کیسے بیک وقت اپنی محبوب پارٹی کی کیمپین بھی چلانی ہے اور خود کو آزاد اور غیر جانبدار تجزیہ نگار بھی منوانا ہے۔۔۔۔ بطور تارک وطن جتنا دکھ ملک کے حالات پر مجھے ہوتا ہے شاید ہی کسی کو ہوتا ہو، ہمارا جسم کینیڈا میں مگر دل پاکستان میں دھڑکتا ہے، ہمارے پرکھوں کی قبریں یہاں ہیں، اس ملک کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، نہ جانے ان کرپٹ سیاستدانوں سے کب ہماری جان چھوٹے گی۔۔۔۔ بطور سرکاری افسر مجھ سے زیادہ کسی کو علم نہیں کہ گورننس کے حالات کیا ہیں، ملک میں قانون ضابطے نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، ہر طرف کرپشن کا دور دورہ ہے، شکر ہے کہ میں اس گندگی سے دور بالکل پاک صاف ہوں، کبھی کبھار کپڑو ں پر کوئی چھینٹا پڑ جائے تو نیب کے اعلی ڈیٹرجنٹ سے دھلوا کر صاف کروا لیتا ہوں۔

یہ ہے ہماری منافقت کا کل خلاصہ۔ نیکو کاروں کا ایک جم غفیر اس ملک میں پایا جاتا ہے، معاشرے میں پاک دامن افراد کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے، ہر مجلس میں نجیب اور اجلے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے، شرافت اور ایمانداری کا پرچار ہر طرف ہے، اس کے باوجود نہ جانے وہ کون لوگ ہیں جو سڑکوں پر قانون کی دھجیاں اڑاتے پھرتے ہیں، نہ جانے وہ کون سے تاجر ہیں جو ملاوٹ شدہ زہریلی اشیا بیچتے ہیں، نہ جانے وہ کون سے نوجوان ہیں جو امتحان میں نقل کرتے پکڑے جاتے ہیں، نہ جانے وہ کون سے مولوی صاحبان ہیں جو مذہبی منافرت پھیلاتے ہیں، نہ جانے وہ کون سے اینکر ہیں جو آزادی اظہار کے نام پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں، نہ جانے وہ کون سے افسران ہیں جو دفتروں میں کام نہیں کرتےاور نہ جانے وہ کون سے تارکین وطن ہیں جو پاکستان سے باہر تو سڑک پر تھوکتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں لیکن اپنے پرکھوں کی قبروں والے ملک میں لینڈ کرتے ہی قطار بنانا بھول جاتے ہیں۔ تھوڑی بہت منافقت ہر انسان میں ہوتی ہے، کوئی بھی فرشتہ نہیں ہوتا، ہر ایک میں خامیاں ہوتی ہیں، ہر شخص کو برائی میں کشش محسوس ہوتی ہے، گناہ میں لذت بھی ملتی ہے، یہ سب نارمل باتیں ہیں، ابنارمل بات یہ ہے کہ ہم یہ تسلیم ہی نہ کریں کہ بطور انسان ہم میں کوئی خامی ہے اور یہیں سے اصل خرابی شروع ہوتی ہے۔ ہم سب عام انسان ہیں، کوئی دیوتا ہے نہ شیطان، کسی میں بشر ی کمزوریاں زیادہ ہیں کسی میں کم، کوئی ماضی میں زیادہ گناہگار تھا اب تائب ہو کر کم گناہ کرتا ہے، ہر شخص کی زندگی روشن پہلو بھی ہوتے ہیں اور تاریک بھی، دودھ کا دھلا ہوا ہم میں سے کوئی بھی نہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اپنی ذات کو تو ہم کسی بھی قسم کی چھلنی سے گزارنا پسند نہیں کرتےاور اس کے برعکس دوسروں کو بے حد کڑے پیمانے پر پرکھتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی خود کو ایک نارمل انسان سمجھنے یا تسلیم کرنے کو تیار نہیں، ہر کسی کے پاس اپنے کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے، لوگ کرپشن کے خلاف جہاد کے دعوی دار بھی ہیں اوروہی لوگ کرپشن میں لتھڑے بھی ہوئے ہیں، یہاں لوگ حتی المقدور قانون بھی توڑتے ہیں اور پھر ملک میں لاقانونیت کا ماتم بھی کرتے ہیں، شام کو اینکرز ملک میں ہونے والی ہونے والی بے ضابطگیوں پر قانون حرکت میں لانے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں اور اسی سانس میں پیمرا قوانین کے پرخچے بھی اڑاتے ہیں، یہاں لوگ ملک میں انصاف پر مبنی نظام قائم کرنے کی دہائی بھی دیتے ہیں اور ساتھ ہی تمام عدالتی عمل کو پاؤں تلے روندتا بھی ہیں ۔

یہ کیا طرز عمل ہے، اس کی کیا وجہ ہے اور اس سے کیسے چھٹکارا ممکن ہے ؟ دل تو کرتا ہے کہ یہ لکھ کر جان چھڑا لوں کہ یہ ذکر پھر کبھی۔ پھر سوچتا ہوں کہ اگر میں نے اس کا حل نہیں بتایا تو پھر ملک کا کیا بنے گا ! لیکن میرا خیال ہے کہ ملک میرے افکار عالیہ کے بغیر بھی چل سکتا ہے سو ان باتوں کا حل پھر کبھی۔

کالم کی دُم : نیشنل جیوگرافک فیم افغانی لڑکی شربت گلہ المعروف مونا لیزا گزشتہ دنوں جعلی شناختی کارڈ بنوانے کے الزام میں پکڑی گئی، مجھے اس سے ہمدردی ہے کیونکہ ایک ان پڑھ بے یار و مدد گار لڑکی جو مہاجر کے طور پر در بدر ٹھوکریں کھا رہی ہو، اس کے ساتھ کیا بیتی ہوگی، یہ کوئی نہیں جان سکتا۔ مجھے البتہ اس بات پر ضرور رائے دینی ہے کہ جس تصویر کو مغربی میڈیا نے زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی سوائے اس کے وہ نیشنل جیوگرافک کے سرورق پر شائع ہوئی اور ہم نے اسے گلے سے لگا لیا۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *