برسلز: یورپین لٹریری سرکل کے زیر اہتمام اجلاس‘ یورپ بھر سے دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں کی شرکت

برسلز (نمائندہ پکار) برسلز میں یورپین لٹریری سرکل کے زیراہتمام منعقدہ اجلاس میں شرکاءنے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ثقافت ایک ایسا مشترکہ اثاثہ ہے جسے اگر ا±س کے وسیع تناظر میں دیکھتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے تو وہ ہر معاشرے کیلئے خیر اور ہر باہر سے آنے والوں  کیلئے جائز مواقع کے حصول کا سبب بن سکتا ہے۔ یورپین لٹریری سرکل کے سیکریٹری جنرل چوہدری عمران ثاقب کی دعوت پر یورپ بھر سے آئے ہوئے دانشوروں ، ادیبوں ، شاعروں اور شاعرات نے برسلز کی اہم ترین تاریخی عمارت 1000 برسلز کی سینٹرل کمیون منعقدہ اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔جس کا اہتمام اسی میونسپلٹی کے پہلے پاکستانی نژاد کونسلر محمد ناصر چوہدری کے تعاون سے کیا گیا تھا جبکہ اس کے شرکاءمیں ڈنمارک سے صدف مرزا، ناروے سے ڈاکٹر ندیم سید، جرمنی اسٹٹ گارڈ سے ہ±±ما مالنی، برلن سے ڈاکٹر عشرت معین سیما، بون سے   سیمی زیدی ،برطانیہ سے فیض امن میلے کے آرگنائزر اکرم قائم خانی، برمنگھم اپوا برطانیہ کی چیئرپرسن رفعت مغل، اپواہی کی رعنا شمع نذیر، لیورپول پول یونیورسٹی سے دلنوازگل، تیونسی نڑاد ڈاکٹر منال، ہالینڈ سے پاکستان میلے کے روح رواں اعجاز سیفی، آدم جی ایوارڈ یافتہ ادیب خالد فاروق , صفدر نوید زیدی ،عدیل شاکر، منصور عالم، اسپین سے راجہ شفیق کیانی،اٹلی سے چوہدری نواز گلیانہ ، فرانس سے عاکف غنی ، شیخ نعمت اللہ، نبیلہ آرزواور آصف جاوید آصف،جبکہ بلجیم سے چوہدری عمران ثاقب اور شیراز راج کے علاوہ دیگر ادب نواز احباب شامل تھے۔ صبح سے شام تک جاری رہنے والے اس اجلاس کی تین نشستیں تھیں جس میں سب سے پہلے مہمانوں کو یورپین پارلیمنٹ کا دورہ کرایا گیا۔بعد ازاں ” مہاجر خواتین کی بحالی میں ثقافت کا کردار” کے موضوع پر ہونے والی نشست میں ڈاکٹر منال ، کونسلر ناصر چوہدری ، رعنا شمع نذیر ، کوکل برگ کمیون سے پاکستانی خاتون کونسلر لامیہ خان ، ڈاکٹر عشرت معین ، سیمی زیدی، رفعت مغل ، ڈاکٹر ندیم سیداور دلنواز گل نے اظہارخیال کیا۔ اس دوران ایک رپورٹ زیر بحث آئی جس میں بتایا گیا کہ یورپ میں اس وقت لاکھوں خواتین جسم فروشی میں ملوث ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ رہائش کی عدم دستیابی کی ابتدائی مشکلات ہیں۔ جن میں زبان سے ناوقفیت اور اپنی ثقافت کے کھو جانے کا خوف شامل ہیں۔ جس کے باعث سیکھنے کی صلاحیت میں مسلسل کمی واقع ہوتی ہے اور پھر مالی مطالبات اور ضروریات ا±نہیں ہوس پرستوں کا شکار بنادیتی ہیں۔ اسی تناظر میں سماج کے اندر خواتین کے حقوق اور انکا کردار بھی زیر بحث آیا جس میں یہ نکتہ اہمیت کا حامل تھا کہ خواتین برابری نہیں بلکہ انصاف چاہتی ہیں۔ اس دوران یہ بات خاص طور پر نوٹ کی گئی کہ تعلیم و تربیت کی ضرورت صرف خواتین ہی کو نہیں بلکہ مردوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ جیسا کہ کونسلر لامیہ خان نے کہا کہ صحیح سوچ اور تعلیم و تربیت ان کے شوہر کی طرح انکے کام میں رکاوٹ نہیں بلکہ ان کی مدد سے آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرتی ہے۔ دوسری جانب لٹریسی سرکل  کی صدر صدف مرزا  کا یہ کہنا بھی بجا تھا کہ کچھ بننے کیلئے خواتین  کو اپنی منزل اور اس کیلئے محنت کا راستہ خود متعین کرنا ہو گا۔اسٹڈی سرکل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر عشرت معین سیما نے بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے معاشروں میں خواتین کی غیر مودگی کو توجہ کا مرکز بنایا۔ ا±نہوں نے متوجہ کیا کہ ان محافل سے خواتین کی غیر موجودگی دراصل مردوں کے اپنے خوف کی علامت ہے۔ جس کے ذریعے وہ یہ تاثر دے رہے ہوتے ہیں کہ خواتین کے حوالے سے انکی اپنی سوچ ناپختہ اور اس کے نتیجے میں ا±نہیں اپنی ہی جنس کے دیگر لوگوں پر اعتبار نہیں۔ بعد ازاں ادب وثقافت کی ترویج، کتب کی رونمائی اور کلا م شاعر بزبان شاعر کے عنوان سے تیسری نشست ہوئی۔ جس میں فیض میلہ کی آرگنائزنگ کمیٹی برطانیہ کے صدر اکرم قائم خانی۔ بلجیم سے کونسلر عامر نعیم ،چوہدری نواز گلیانہ، راجہ شفیق کیانی اور اعجاز سیفی نےروشنی ڈالی۔ اکرم قائم خانی نے فیض امن میلے کے یورپ اور امریکہ میں انعقاد کے حوالے سے گفتگو کی اور اس کے لئے باہمی تعاون پر زور دیا۔ دیگر مقررین نے اس خیال سے اتفاق کیا کہ ان سرگرمیوں میں اضافے کیلئے مزید کوششوں اور اس میں خواتین و فیملیز  کی بھر پورشرکت ضروری ہے۔ اس موقع پر ہالینڈ سے آدم جی ایوارڈ یافتہ خالد فاروق ، جرمنی سے ہ±ما مالنی ، جرمنی سے ڈاکٹر عشرت معین ، ہالینڈ سے عدیل شاکر۔ڈنمارک سے صدف مرزا ، صفدر نوید زیدی اور فرانس سے عاکف غنی کی کتب کی رونمائی ہوئی جس کے بارے میں مصنفین نے مختصراً اظہار خیال بھی کیا۔ نشست کے آخری حصے میں چوہدری عمران ثاقب ، شیراز راج ، سیمی زیدی ، عدیل شاکر ، عاکف غنی ، نبیلہ آرزو، اور آصف جاوید آصف نے اپنا کلام سنایا اور خوب داد وصول کی۔جب کہ پی ٹی وی کی معروف اینکر اور ادبی پروگراموں کی میزبان نے مشاعرے کی نقابت کے۔ بعد ازاں یورپین لٹریری سرکل کی صدر صدف مرزا اور جنرل سیکرٹری عمران ثاقب نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے 1000 برسلز کمیون کے کونسلر ناصر چوہدری، سماجی کارکن روبینہ خان ، ایم ندیم بٹ،  اور دیگر ممالک کے شرکاءکا خصوصی شکریہ اداکیا۔ دور دور سے آئے ہوئی مہمانوں کی پذیرائی میں بلجیم کی معروف سماجی کارکن، سیف پاکستان این جج او کی چیئرپرسن روبینہ خان نے اہم کردار ادا کیا۔اس موقع پر آفیشل گائیڈ کے ذریعے یونیسکو کی جانب سے ثقافتی ورثہ قرار دی جانے والی اس عمارت کا دورہ کرانے کا  بھی اہتمام کیا گیا۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *