حالتِ زوال: کبھی آلو پر اللہ کبھی چاند پر حسین ڈھونڈنا

مسلمان علم کے شیدائی رہے ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ نبی محترم ﷺ کا علم کے حصول کے لیے آنے والوں کو صفہ کے چبوترے پر فری ایجوکیشن فراہم کرنا، بدر کے قیدیوں کو دنیاوی تعلیم دینے کے لیے رہائی تک فراہم کرنا اور قرآن و حدیث لکھنے والوں کو سب سے زیادہ تکریم دینا ایسے اقدام تھے جنہوں نے مسلمانوں کی تاریخ میں گہرے نقوش چھوڑے۔ چاہے کتنی ہی جنگیں کیوں نہ ہوئیں پھر بھی ہر دور میں بیت الحکمہ جیسے ریسرچ سنٹرز قائم ہوتے رہے۔ کتنے مہندس، کتنے طبیب کتنے جراح، کتنے ریاضی دان مسلمانوں کی علمی درس گاہوں سے نکلتے رہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ علمی تشنگی بجھانے کے لیے الازہر، بغداد اور دمشق کے سنٹر معاشرے میں طبقاتی تعلیم پر یقین نہ رکھتے تھے بلکہ یہ کوشش کی جاتی تھی ہر کسی کو ایک ہی نوع کی تعلیم دی جائے اور علم کا میدان ان کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے وہ جس پہلو سے تحقیق کرنا چاہیں کریں۔ ایک ہزار سال تک یہ تحقیق اور ادارے دنیا میں مرکز کی حیثیت سے قائم رہے۔

لیکن جونہی سلطنتیں بڑھیں اور معاشرے میں فرقہ پرستی، شخصیت پرستی اور جمود نے علم کی جگہ لے لی تو زوال شروع ہوگیا۔ فکری عروج کے دور میں علماء نے اقتدار کو اپنی جاگیر بنانے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی اور یہی وجہ تھی کہ ریاستیں علماء سے مشورے کرنے کو فریضہ سمجھتی تھیں کیونکہ علماء اقتدار کے روڈ سے ہٹ کر ہی چلتے تھے, خود پر ہونے والے مظالم کے باوجود بھی اقتدار کے حصول کی خواہش کو اپنے قریب تک نہ آنے دیا ۔ اقتدار کے حصول کی خواہش سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ امام ابوحنیفہ کو زندان میں ڈالا گیا اور امام احمد بن حنبل کو کوڑے تک مارے گئے لیکن ان میں کسی نے خود پر ہونے والے ظلم و ستم کیی وجہ سے کبھی حکومت کے خلاف اٹھنے والی چنگاری کو ایندھن فراہم نہیں کیا کیونکہ ان کا مقصد اقتدار نہیں تھا اس سب کے باوجود وہ حکومت وقت کی فاش غلطیوں کے خلاف کلمہ حق بلند کرکے صعوبتیں برداشت کرتے رہے ۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ مسلم سائنسدان ان وقتوں میں علم کی معراج کو پہنچے کسی نے سائنس کو پڑھنے کے لیے غیر ملکی زبان کو ذریعہ تعلیم نہ بنایا بلکہ عربی ہی سائنس کی زبان بن گئی۔ حکمرانوں کے ہاں بھی صاحب علم لوگوں کی قدر ہوتی تھی غزنوی اپنے ساتھ البیرونی کو لایا۔ غرض جب علماء کی ترجیحات اقتدار نہ تھیں اور حکومت کا نظام تعلیم یکسوء تھا تو سائنس مسلمانوں کی وفا شعار رہی ۔

وقت بدلا اکیسویں صدی آ گئی، علماء کا طبقہ علم کو محدود کرنے میں جت گیا، لا حاصل بحثیں شروع ہو گئیں اقتدار کاراستہ علماء کو بہت خوشنما معلوم ہوا اور ریاست نے طبقاتی نظام تعلیم کو فروغ دیا۔ جس کا نتیجہ کچھ یوں نکلا مذہبی طبقے اور حکمرانوں میں خواہ مخواہ کی کھینچا تانی شروع ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکمران علماء کو بطور مشیر تو گوارا کر سکتے تھے لیکن اپنا مدمقابل نہیں بنا سکتے تھے۔ دوسری طرف علماء مشیر سے حکمران کا سفر طے کرنا چاہتے تھے۔ غرض اس کھینچا تانی سے امت کا ایسا نقصان ہوا جس کا ازالہ شاید اس صدی میں تو ممکن ہی نہ ہو ۔ نتیجے کے طور پر ہمیں جو بغدادی ملے وہ الکندی جیسے بغدادی نہیں بلکہ جیکٹ پھاڑ بغدادی تھے۔ مسلمانوں کے اس فکری انحطاط کے کے ذمہ دار علماء بھی ہیں اور حکمران طبقہ بھی یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشروں میں فکری و علمی زوال اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ کوئی آلو پر اللہ کا نام ڈھونڈ رہا ہے اور کوئی چاند پر حسین کا نام۔ افسوس کا مقام ہے ہمیں حسین چاند پر تو نظر آجاتا ہے لیکن اس کرہ ارضی پر اس کی سیرت کا عکس ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آ سکتا ۔ہمیں رب کا نام ”آلو“ پر تو نظر آ گیا لیکن ہماری زندگیوں میں اس نام کی محبت کی جھلک نظر نہیں آتی ۔ شاید ہم اپنی نالائقی کو چھپانے کے لئے مقدس ہستیوں سے وابستگی دکھاتے ہیں یہ جاننے کے باوجود بھی کہ کوئی ہے ”جو علیم بذات الصدور“ ہے اوراس نے ہم کو یہاں آلو پر اس کا نام ڈھونڈنے کے لئے نہیں بھیجا ۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *